اہلبیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ مصر میں عدلی منصور اور مختلف شخصیات اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد آخر کار حازم الببلاوی کو وزیر اعظم بنا دیا گياہے۔ مصر کے عبوری صدر نے کل اس ملک کے سابق وزیر خزانہ حازم الببلاوی کو کابینہ کی تشکیل کی ذمے داری سونپی۔ حازم الببلاوی مصر کی ایک لبرل شخصیت ہیں اور ان کو اس ملک میں مصنف اور ماہر اقتصادیات کے طور پر جانا جاتا ہے۔ حازم الببلاوی نے عبوری وزیر اعظم بننے کے بعد کہا ہےکہ ان کی پہلی ترجیح اقتصاد اور قیام امن ہے اور وہ تجربہ کار اور ماہر افراد کو اپنی کابینہ میں شامل کریں گے۔مصر کے اخبارات و جرائد اور دوسرے خبری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہےکہ اخوان المسلمین کی جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی کو جو وزارتیں دی جائيں گي ان کا اعلان بھی مصرکےصدر کے ترجمان کریں گے۔ اس ملک کی النور سلفی پارٹی کو بھی اسی طرح کی پیشکش کی جائے گي۔ صدارتی دفتر کے ترجمان نے کہا ہےکہ عبوری حکومت کو کابینہ میں النور پارٹی اور جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی کے ارکان کی شرکت پر کوئي اعتراض نہیں ہے۔البتہ اخوان المسلمین کےترجمان جہاد الحداد نے کہا ہےکہ ان کی تنظیم کو عبوری حکومت پر اعتماد نہیں ہے اور وہ اس حکومت کے تمام اعلامیوں اور حکمناموں کو غیر قانونی جانتی ہے۔ اخوان المسلمین کا یہ موقف ایسی حالت میں سامنے آيا ہےکہ جب مصر کے معزول صدر محمد مرسی کے ہزاروں حامی قاہرہ شہر میں واقع مسجد رابعہ العدویہ کے سامنے مظاہرے کر کے محمد مرسی کو دوبارہ صدارت سونپے جانے کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ مصر کی فوج نے اس ملک میں اقتدار کی منتقلی کی راہ میں کسی بھی طرح کا خلل ڈالنے کے بارے میں انتباہ دیا ہے۔ دریں اثناء اس ملک کے عبوری صدر عدلی منصور نے ایک حکمنامہ جاری کیا ہے جس کی فوج نے حمایت کی ہے۔ لیکن محمد مرسی کے خلاف تیس جون کے مظاہرے کی کال دینے والی سول نافرمانی تحریک نے اس حکمنامے کو مصر میں نئی ڈکٹیٹر شپ کا پیش خیمہ قرار دیا ہے۔اس نئے حکمنامے کے مطابق مصر میں رواں سال کے اختتام سے قبل پارلیمانی انتخابات منعقد ہوں گے۔ محمد مرسی کے مخالف سب سے بڑے اتحاد نیشنل سالویشن فرنٹ نے بھی صدارتی حکمنامے کومسترد کردیا ہے۔ اس اتحاد کا کہنا ہےکہ اس حکمنامے سے عبوری صدر کو وسیع اختیارات حاصل ہوجاتے ہیں۔ نیشنل سالویشن فرنٹ کا یہ بیان ایسی حالت میں سامنے آيا ہے کہ جب مصرکے عبوری صدر نے نیشنل سالویشن فرنٹ کے ایک رہنما البرادعی کو اپنا نائب مقرر کیا ہے۔ محمد البرادعی ایک ایسی لبرل شخصیت ہیں جو حالیہ مہینوں کے دوران محمد مرسی کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ ایسا لگتا ہےکہ مصر میں فوج اور لبرل جماعتوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا ہوچکا ہے۔ اس ملک کے وزیر دفاع عبد الفتاح السیسی نےبھی کہا ہے کہ اقتدار کی منتقلی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنےوالوں کے ساتھ سختی سےنمٹا جائے گا۔ دریں اثناء مصر میں اخوان المسلمین کے دفاتر پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس سے اس بات کا پتہ چلتا ہےکہ اس ملک میں مختلف جماعتوں کے درمیان انتقامی کارروائيوں کا عمل شروع ہوچکا ہے جس سے اس ملک میں حالات مزید پیچیدہ ہونےکی نشاندہی ہوتی ہے۔ بہرحال اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ مصرکا بحران اخوان المسلمین سمیت اس ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی شرکت اور کوشش کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے اور اس کے علاوہ کوئي راستہ اختیار کیا گيا تو اس ملک میں بدامنی اور بحران مزید شدت اختیار کرتا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲
9 جولائی 2013 - 19:30
News ID: 439149
مصر میں عدلی منصور اور مختلف شخصیات اور سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کے بعد آخر کار حازم الببلاوی کو وزیر اعظم بنا دیا گياہے۔